6 نومبر 2026 - 14:51
اب ہم امریکہ کے کاغذی وعدوں پر اکتفا نہیں کریں گے،  ڈپٹی سیکرٹری اعلیٰ قومی سلامتی کونسل

اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری نے کہا: سفارت کاری کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے ہمیں امریکیوں کے عملی اقدامات دیکھنا ہوں گے اور ہم ان کے کاغذی وعدوں پر اکتفا نہیں کریں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر علی باقری صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: گذشتہ ڈیڑھ سال میں امریکیوں کے ساتھ سفارت کاری کے چار دور ہوئے، اور انہوں نے مذاکرات کے چاروں ادوار کو دشمنانہ اقدامات اور عہد شکنی سے درہم برہم کر دیا اور مختلف صورتحال پیدا کر دی۔

انہوں نے مزید کہا: اسی لئے اسلامی جمہوریہ ایران کا حق ہے کہ سفارت کاری کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے اب امریکیوں کے کاغذی وعدوں پر اکتفا نہ کرے۔ ہمیں امریکیوں کی طرف سے عملی اقدامات دیکھنا ہوں گے۔

باقری نے زور دے کر کہا: یہ عملی اقدامات بہت فطری اور واضح اقدامات ہیں جو مخالف فریق کو عمل مین لانا ہونگے۔ جب یہ اقدامات عملی شکل اختیار کر لیں گے، تو نئے باب کے کھولنے کے لئے ماحول فراہم ہو جائے گا۔

میجر جنرل رضائی اور صدر پیوتن کی تین گھنٹے کی ملاقات کا بنیادی مقصد کیا تھا؟

ڈاکٹر باقری نے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی کے دورہ ماسکو اور پیوتن سے ان کی ملاقات اور بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جنرل رضائی نے روسی وفاق کے صدر جناب ولادیمیر پیوتن سے تفصیلی ملاقات کی جو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔

انہوں نے مزید کہا: اس دورے کا بنیادی مقصد رہبر معظم کا پیغام روسی صدر تک پہنچانا تھا۔

باقری نے مزید کہا: اس پیغام میں اسلامی جمہوریہ ایران کے دوطرفہ تعاون کے لئے مطلوبہ بنیادی موجبات و عناصر کا جائزہ لیا گیا اور اس تعاون اور تعامل کا نقطہ نظر بھی ترسیم کیا گیا تاکہ روسیوں کے لئے آیت اللہ امام سید مجتبی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت کے دور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون کا معاملہ مزید واضح ہو جائے۔

ایران اور روس کے تعاون سے بعض طاقتوں کا خام خیال ختم ہو جائے گا

اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری نے ایران اور روس کے تعاون میں دو تزویراتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: روس کی گیس کی ایران منتقلی اور شمال-جنوب راہداری، ایسے اسٹریٹجک منصوبے ہیں جو امریکہ سمیت بعض طاقتوں کا اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ ڈالنے کا خام خیال ختم کر دیں گے۔

انھوں نے مزید کہا: یہ دو منصوبے اقتصادی صلاحیتیں ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ہیں اور جنہیں وہ ملک اور خطے کی ترقی کے ساتھ ساتھ سلامتی کے لئے بھی بہترین طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha